Ghafir • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ ٱلَّذِينَ يَحْمِلُونَ ٱلْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُۥ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِۦ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَىْءٍۢ رَّحْمَةًۭ وَعِلْمًۭا فَٱغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا۟ وَٱتَّبَعُوا۟ سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ ٱلْجَحِيمِ ﴾
“THEY WHO BEAR [within themselves the knowledge of] the throne of [God’s] almightiness, as well as all who are near it, extol their Sustainer’s limitless glory and praise, and have faith in Him, and ask forgiveness for all [others] who have attained to faith: “O our Sustainer! Thou embracest all things within [Thy] grace and knowledge: forgive, then, their sins unto those who repent and follow Thy path, and preserve them from suffering through the blazing fire!”
جو اللہ کے بندے بے آمیز حق کی دعوت لے کر اٹھتے ہیں ان کو ہمیشہ ستایا جاتا ہے۔ ان کو ماحول میں حقیر بنادیا جاتا ہے۔ مگر عین اس وقت جب کہ ظاہر پرست انسانوں کے درمیان ان کا یہ حال ہوتا ہے، عین اسی وقت زمین و آسمان ان کے برسرِ حق ہونے کی تصدیق کررہے ہوتے ہیں۔ کائنات کا انتظام کرنے والے فرشتے ان کے حسنِ انجام کے منتظر ہوتے ہیں۔ وقتی دنیا میں ناقابلِ تذکرہ سمجھے جانے والے لوگ ابدی دنیا میں اس مقام عزت پر ہوتے ہیں کہ اللہ کے مقرب ترین فرشتے بھی ان کے حق میں دعائیں کررہے ہیں۔