Ghafir • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ فَٱصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّۭ ۚ فَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ ٱلَّذِى نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ ﴾
“HENCE, remain thou patient in adversity - for, verily, God’s promise always comes true. And whether We show thee [in this world] something of what We hold in store for those [deniers of the truth], or whether We cause thee to die [ere that retribution takes place - know that, in the end], it is unto Us that they will be brought back.”
یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ حق کے داعیوں کی مدد کرے گا اور حق کے مخالفین کو مغلوب کرے گا۔ مگر اس وعدہ کا تحقق صبر کے بعد ہوتا ہے۔ داعی کو یک طرفہ طورپر فریق ثانی کی ایذاؤں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ خدا کی سنت کے مطابق اس کے وعدہ کے ظہور کا وقت آجائے۔ مخالفین حق کی اصل سزا وہ ہے جو انھیں آخرت میں ملے گی۔ تاہم موجودہ دنیا میں انھیں اس کا ابتدائی تجربہ کرایا جاتاہے، اگر چہ ہمیشہ ایسا کیا جانا ضروری نہیں۔