Al-Jaathiya • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ تَنزِيلُ ٱلْكِتَٰبِ مِنَ ٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَكِيمِ ﴾
“THE BESTOWAL from on high of this divine writ issues from God, the Almighty, the Wise.”
يه كهنا كه قرآن عزيز وحكيم خداكي طرف سے اترا هے، گويا خود اپني طرف سے ايك ايسا قطعي معيار دينا هے جس پر اس كي صداقت كو جانچا جاسكے۔ خدائے عزيز كي طرف سے اس كے اترنے كا مطلب يه هے كه كوئي اس كتاب كو زير نه كرسكے گا۔ قرآن هر حال ميں اپنے مخالفين پر غالب آكر رهے گا۔ يه بات مكي دور ميں كهي گئي تھي۔ اس وقت حالات سراسر قرآن كے خلاف تھے۔ مگر بعد كي تاريخ نے حيرت انگيز طورپر اس كي تصديق كي ۔ قرآن كي دعوت كو تاريخ كي سب سے بڑي كاميابي حاصل هوئي۔ اسي طرح خدائے حكيم كي طرف سے اترنے كا تقاضا يه هے كه اس كے مضامين سب كے سب عقل ودانش پر مبني هوں۔ يه بات بھي ڈيڑھ هزار سال سے مسلسل درست ثابت هوتي جارهي هے۔ قرآن دورِ سائنس سے پهلے اترا۔ مگر دورِ سائنس ميں بھي قرآن كي كوئي بات عقل كے خلاف ثابت نه هوسكي۔ اس كے علاوه جو كائنات انسان كے چاروں طرف پھيلي هوئي هے، اس كي تمام چيزيں قرآن كے پيغام كي تصديق بن گئي هيں۔ تاهم يه تصديق صرف ان لوگوں كے لیے تصديق بنے گي جن كے اندر يقين كرنے كا ذهن هو جو نشانيوں كي زبان ميں ظاهر كي جانے والي بات كو پانے كي استعداد ركھتے هوں۔