WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 27 من سورة سُورَةُ الجَاثِيَةِ

Al-Jaathiya • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَلِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يَوْمَئِذٍۢ يَخْسَرُ ٱلْمُبْطِلُونَ ﴾

“For, God’s is the dominion over the heavens and the earth; and on the Day when the Last Hour dawns - on that Day will be lost all who [in their lifetime] tried to reduce to nothing [whatever they could not understand].”

📝 التفسير:

جو لوگ الله كي بنياد پر دنيا ميں كھڑے هوں وه حق كي بنياد پر كھڑے هوتے هيں۔ اور جو لوگ اس كے سوا كسي اور بنياد پر كھڑے هوں وه باطل كي بنياد پر كھڑے هوئے هيں۔ ايسے تمام لوگ آخرت ميں بے زمين هو كر ره جائيں گے۔ كيوں كه انھوں نے جس چيز كو بنياد سمجھ ركھا تھا وه كوئي بنياد هي نه تھي۔ وه محض دھوكا تھا جو حقيقت حال كے كھلتے هي ختم هوگيا۔ اعمال كو لكھوانے سے مراد معروف معنوں ميں قلم سے لكھوانا نهيں هے۔بلكه اعمال كو ريكارڈ كرانا هے۔ انسان كي نيت، اس كا قول اور اس كا عمل سب نهايت صحت كے ساتھ خدائي انتظام كے تحت ريكارڈ هورها هے۔ آخرت ميں انسان كے ساتھ جو معامله كيا جائے گا وه عين اس ريكارڈ كے مطابق هوگا۔ يه ريكارڈ اتنا زياده حقيقي هوگا كه كسي كے ليے ممكن نه هوگا كه اس سے انكار كرسكے۔