Al-Jaathiya • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَإِذَا قِيلَ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّۭ وَٱلسَّاعَةُ لَا رَيْبَ فِيهَا قُلْتُم مَّا نَدْرِى مَا ٱلسَّاعَةُ إِن نَّظُنُّ إِلَّا ظَنًّۭا وَمَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ ﴾
“for when it was said, ‘Behold, God’s promise always comes true, and there can be no doubt about [the coming of] the Last Hour’ - you would answer, ‘We do not know what that Last Hour may be: we think it is no more than an empty guess, and [so] we are by no means convinced!’””
تكبر سے مراد خدا كے مقابله ميں تكبر نهيں هے بلكه خدا كے داعي كے مقابله ميں تكبر هے۔ خدا كي بات كو ماننا موجوده دنيا ميں عملاً خدا كے داعي كي بات كو ماننے كے هم معني هوتا هے۔ اب جو لوگ تكبر ميں مبتلا هوں وه اس كو اپنے مرتبه سے كم تر سمجھتے هيں كه وه اپنے جيسے ايك انسان كي بات مان ليں۔ چنانچه وه اس كو نظر انداز كر ديتے هيں۔ اس كے برعكس، جو لوگ تكبر كي نفسيات سے خالي هوں وه فوراً اس كے آگے جھك جاتے هيں۔ پهلے گروه كے لیے خدا كا غضب هے اور دوسرے گروه كے لیے خدا كي رحمت۔ ايك انسان جب حق كا انكار كرتا هے تو اپنے انكار كو جائز ثابت كرنے كے ليے وه طرح طرح كي باتيں كرتا هے۔ وه كبھي داعي كو ناقابل اعتماد ثابت كرتا هے كبھي داعي كے پيغام ميں شك وشبه كا پهلو نكالتا هے۔مگر قيامت كے دن كھل جائے گا كه يه سب مجرمانه ذهن سے نكلي هوئي باتيں تھيں، نه كه حق پرستانه ذهن سے نكلي هوئي باتيں۔