WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 35 من سورة سُورَةُ الجَاثِيَةِ

Al-Jaathiya • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ ذَٰلِكُم بِأَنَّكُمُ ٱتَّخَذْتُمْ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ هُزُوًۭا وَغَرَّتْكُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۚ فَٱلْيَوْمَ لَا يُخْرَجُونَ مِنْهَا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ ﴾

“this, because you made God’s messages the target of your mockery, having allowed the life of this world to beguile you!” On that Day, therefore, they will not be brought out of the fire, nor will they be allowed to make amends.”

📝 التفسير:

موجوده دنيا ميں آدمي جب برائي كرتا هے تو اس كے برے نتائج فوراً اس كے سامنے نهيں آتے۔ يه چيزاس كو دلير بناديتي هے۔ اس كو جب اس كي بدعملي سے ڈرايا جاتا هے تو وه سنجيدگي كے ساتھ اس كو سننے كے ليے تيار نهيں هوتا۔ مگر آخرت ميں اس كي برائيوں كے نتائج اس كي آنكھوں كے سامنے آجائيں گے۔ وه اپني بداعماليوں ميں پوري طرح گھر چكا هوگا۔ اس وقت وه اس حق كا اقرار كرلے گا جس كو دنيا ميں اس نے اتنا بے قيمت سمجھا تھا كه وه اس كا مذاق اڑاتا رها۔ آخرت ميں انسان اس حق كا اقرار كرے گا جس كو وه دنيا ميں جھٹلاتا رها۔ مگر وهاں اس كو قبول نهيں كيا جائے گا۔ كيوں كه حق كا اقرار غيب كي سطح پر قيمت ركھتا هے، نه كه شهود كي سطح پر۔