Muhammad • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ مَاتُوا۟ وَهُمْ كُفَّارٌۭ فَلَن يَغْفِرَ ٱللَّهُ لَهُمْ ﴾
“Verily, as for those who are bent on denying the truth and on barring [others] from the path of God, and then die as deniers of the truth - indeed, God will not grant them forgiveness!”
ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض مسلمانوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ اگر وہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کرلیں تو کوئی گناہ ان کو نقصان نہ پہنچائے گا۔ اس پر یہ آیت 33 اتری۔ اس کی روشنی میں آیت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو چاہيے کہ وہ ایمان کے ساتھ اطاعت کو جمع کرے۔ وہ نہ صرف بے ضرر احکام کی پیروی کرے بلکہ وہ ان احکام کا بھی پیرو بنے جن کے لیے اپنے نفس کو کچلنا اور اپنے مفاد کو خطرے میں ڈالنا پڑتا ہے۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس کے سابقہ اعمال اس کو کچھ فائدہ نہیں دیں گے۔ کمزور مسلمانوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ حق کا ساتھ اس شرط پر دیتے ہیں کہ وقت کے بڑوں کی ناراضگی مول نہ لینی پڑے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ حق کا ساتھ دینا وقت کے بڑوں کو ناراض کرنے کا سبب بن رہا ہے تو وہ ان کی طرف جھک جاتے ہیں، خواہ یہ بڑے حق کے منکر ہوں اور خواہ وہ حق کو روکنے والے بنے ہوئے ہوں۔ جو لوگ حق کا انکار کریں اور اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوجائیں وہ کبھی اللہ کی رحمت نہیں پا سکتے۔ پھر جو لوگ ایسے منکرین کا ساتھ دیں، ان کا انجام ان سے مختلف کیوں ہوگا۔ اسلام میں جنگ بھی ہے اور صلح بھی۔ مگر وہ جنگ اسلامی جنگ نہیں جو اشتعال کی بنا پر لڑی جائے۔ اسی طرح وہ صلح بھی اسلامی صلح نہیں جس کا محرک بزدلی اور کم ہمتی ہو۔ کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں چیزیں سوچے سمجھے فیصلہ کے تحت کی جائیں، نہ کہ محض جذباتی رد عمل کے تحت۔