WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 12 من سورة سُورَةُ الفَتۡحِ

Al-Fath • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ بَلْ ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ ٱلرَّسُولُ وَٱلْمُؤْمِنُونَ إِلَىٰٓ أَهْلِيهِمْ أَبَدًۭا وَزُيِّنَ ذَٰلِكَ فِى قُلُوبِكُمْ وَظَنَنتُمْ ظَنَّ ٱلسَّوْءِ وَكُنتُمْ قَوْمًۢا بُورًۭا ﴾

“Nay, you thought that the Apostle and the believers would never return to their kith and kin: and this seemed goodly to your hearts. And you entertained [such] evil thoughts because you have always been people devoid of all good!””

📝 التفسير:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔ اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔ ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔