Al-Fath • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ قُل لِّلْمُخَلَّفِينَ مِنَ ٱلْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَىٰ قَوْمٍ أُو۟لِى بَأْسٍۢ شَدِيدٍۢ تُقَٰتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ ۖ فَإِن تُطِيعُوا۟ يُؤْتِكُمُ ٱللَّهُ أَجْرًا حَسَنًۭا ۖ وَإِن تَتَوَلَّوْا۟ كَمَا تَوَلَّيْتُم مِّن قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا ﴾
“Say unto those bedouin who stayed behind: “In time you will be called upon [to fight] against people of great prowess in war: you will have to fight against them [until you die] or they surrender. And then, if you heed [that call], God will bestow on you a goodly reward; but if you turn away as you turned away this time, He will chastise you with grievous chastisement.””
جن لوگوں نے حدیبیہ (6 ھ) کے موقع پر کمزوری دکھائی تھی وہ اس کے نتیجہ میں ملنے والے انعام سے تو محروم رہے۔ مگر ان کے لیے دروازہ اب بھی بند نہ تھا۔ کیوں کہ توحید کی مہم کو ابھی دوسرے بڑے بڑے معرکے پیش آنے باقی تھے۔ فرمایا گیا کہ اگر تم نے آئندہ پیش آنے والے ان مواقع پر قربانی کا ثبوت دیا تو دوبارہ تم خدا کی رحمتوں کے مستحق ہوجاؤگے۔ اس قسم کا امتحان آدمی کے مومن یا منافق ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس سے مستثنی صرف وہ لوگ ہیں جنہیں کوئی واقعی عذر لاحق ہو۔ مجبورانہ کوتاہی کو اللہ معاف فرما دیتا ہے۔ مگر جو کوتاہی مجبوری کے بغیر کی جائے وہ اللہ کے یہاں قابل معافی نہیں۔