WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 17 من سورة سُورَةُ الفَتۡحِ

Al-Fath • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ لَّيْسَ عَلَى ٱلْأَعْمَىٰ حَرَجٌۭ وَلَا عَلَى ٱلْأَعْرَجِ حَرَجٌۭ وَلَا عَلَى ٱلْمَرِيضِ حَرَجٌۭ ۗ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدْخِلْهُ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ۖ وَمَن يَتَوَلَّ يُعَذِّبْهُ عَذَابًا أَلِيمًۭا ﴾

“No blame attaches to the blind, nor does blame attach to the lame, nor does blame attach to the sick [for staying away from a war in God’s cause]; but whoever heeds [the call of] God and His Apostle [in deed or in heart], him will He admit into gardens through which running waters flow; whereas him who turns away will He chastise with grievous chastise­ment.”

📝 التفسير:

جن لوگوں نے حدیبیہ (6 ھ) کے موقع پر کمزوری دکھائی تھی وہ اس کے نتیجہ میں ملنے والے انعام سے تو محروم رہے۔ مگر ان کے لیے دروازہ اب بھی بند نہ تھا۔ کیوں کہ توحید کی مہم کو ابھی دوسرے بڑے بڑے معرکے پیش آنے باقی تھے۔ فرمایا گیا کہ اگر تم نے آئندہ پیش آنے والے ان مواقع پر قربانی کا ثبوت دیا تو دوبارہ تم خدا کی رحمتوں کے مستحق ہوجاؤگے۔ اس قسم کا امتحان آدمی کے مومن یا منافق ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس سے مستثنی صرف وہ لوگ ہیں جنہیں کوئی واقعی عذر لاحق ہو۔ مجبورانہ کوتاہی کو اللہ معاف فرما دیتا ہے۔ مگر جو کوتاہی مجبوری کے بغیر کی جائے وہ اللہ کے یہاں قابل معافی نہیں۔