WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 19 من سورة سُورَةُ الفَتۡحِ

Al-Fath • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَمَغَانِمَ كَثِيرَةًۭ يَأْخُذُونَهَا ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًۭا ﴾

“and [of] many war-gains which they would achieve: for God is indeed almighty, wise.”

📝 التفسير:

حدیبیہ کے سفر میں ایک موقع پر یہ خبر پھیلی کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کردیا جو ان کے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے طور پر گئے تھے۔ یہ ایک جارحیت کا معاملہ تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیکر کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے چودہ سو اصحاب سے یہ بیعت لی کہ وہ مر جائیں گے مگر دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ اسلام کی تاریخ میں اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے۔ یہ بیعت جس مقام پر لی گئی وہ مدینہ سے ڈھائی سو میل اور مکہ سے صرف بارہ میل کے فاصلہ پر تھا۔ گویا مسلمان اپنے مرکز سے بہت دور تھے اور قریش اپنے مرکز سے بہت قریب۔ مسلمان عمرہ کی نیت سے نکلے تھے۔ اس لیے ان کے پاس محض سفری سامان تھا جب کہ قریش ہر قسم کے جنگی سامان سے مسلح تھے۔ ایسے نازک موقع پر یہ صرف لوگوں کا جذبہ اخلاص تھا جس نے انہیں آمادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ دیں۔ کیوںکہ کوئی ظاہری دباؤ وہاں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ ’’اللہ نے ان کے دلوں کا حال جانا اور سکینت نازل فرمائی‘‘— اس سے مراد وہ رنج و اضطراب ہے جو حدیبیہ کی بظاہر یک طرفہ صلح سے صحابہ کے دلوں میں پیدا ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے خدا کے اس حکم کو صبروسکون کے ساتھ قبول کرلیا۔ اس کے نتیجہ میں چند ماہ بعد ہی اس کے فائدے ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ اس معاہدہ نے قریش کو یہود کے محاذ سے الگ کردیا اور اس طرح یہود کو مسخر کرنا آسان ہوگیا۔ جنگی حالات ختم ہونے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت بہت تیزی سے بڑھی، یہاں تک کہ خود قریش کو دعوت کی راہ سے مسخر کرلیا گیا جن کو جنگ کی راہ سے مسخرکرنا مشکل بنا ہوا تھا۔