WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 23 من سورة سُورَةُ الفَتۡحِ

Al-Fath • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ سُنَّةَ ٱللَّهِ ٱلَّتِى قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلُ ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ ٱللَّهِ تَبْدِيلًۭا ﴾

“such being God’s way which has ever obtained in the past - and never wilt thou find any change in God’s way!”

📝 التفسير:

پیغمبر کے مخاطبین ِاول کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ ان کے انکار کے بعد وہ انہیں ہلاک کردیتا ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر قریش کا انکار آخری طور پر سامنے آگیا تھا۔ ایسی حالت میں اگر جنگ کی نوبت آتی تو مسلمانوں کی تقویت کے لیے خدا کے فرشتے اترتے اور وہ مسلمانوں کا ساتھ دے کر ان کے دشمنوں کا خاتمہ کردیتے۔ مگر مشرکین کے سلسلہ میں اللہ کی مصلحت یہ تھی کہ انہیں ہلاک نہ کیا جائے۔ بلکہ ان کی غیر معمولی انسانی صلاحیتوں کو اسلام کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو ناجنگ معاہدہ کی طرف رہنمائی فرمائی۔