Al-Fath • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَهُوَ ٱلَّذِى كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُم بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنۢ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا ﴾
“And He it is who, in the valley of Mecca, stayed their hands from you, and your hands from them, after He had enabled you to vanquish them; and God saw indeed what you were doing.”
پیغمبر کے مخاطبین ِاول کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ ان کے انکار کے بعد وہ انہیں ہلاک کردیتا ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر قریش کا انکار آخری طور پر سامنے آگیا تھا۔ ایسی حالت میں اگر جنگ کی نوبت آتی تو مسلمانوں کی تقویت کے لیے خدا کے فرشتے اترتے اور وہ مسلمانوں کا ساتھ دے کر ان کے دشمنوں کا خاتمہ کردیتے۔ مگر مشرکین کے سلسلہ میں اللہ کی مصلحت یہ تھی کہ انہیں ہلاک نہ کیا جائے۔ بلکہ ان کی غیر معمولی انسانی صلاحیتوں کو اسلام کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو ناجنگ معاہدہ کی طرف رہنمائی فرمائی۔