Al-Fath • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ إِذْ جَعَلَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فِى قُلُوبِهِمُ ٱلْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ ٱلْجَٰهِلِيَّةِ فَأَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَعَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ ٱلتَّقْوَىٰ وَكَانُوٓا۟ أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمًۭا ﴾
“Whereas they who are bent on denying the truth harboured a stubborn disdain in their hearts - the stubborn disdain [born] of ignorance God bestowed from on high His [gift of] inner peace upon His Apostle and the believers, and bound them to the spirit of God-consciousness: for they were most worthy of this [divine gift], and deserved it well. And God has full knowledge of all things.”
جس آدمی کے اندر اللہ کا ڈر پیدا ہوجائے اس کے دل سے ایک اللہ کے سوا ہر دوسری چیز کی اہمیت نکل جاتی ہے۔ وہ صرف ایک اللہ کو ساری اہمیت دینے لگتا ہے۔ حدیبیہ کا موقع صحابہ کے لیے اسی قسم کا ایک شدید امتحان تھا جس میں وہ پورے اترے۔ اس موقع پر فریق ِثانی نے جاہلانہ ضد اور اور قومی عصبیت کا زبردست مظاہرہ کیا۔ مگر صحابہ ہر چیز کو خدا کے خانہ میں ڈالتے چلے گئے۔ ان کے متقیانہ مزاج نے ان کو اس سخت امتحان میں جوابی ضد اور جوابی عصبیت سے بچایا۔ وہ مسلسل اشتعال انگیزی کے باوجود آخر وقت تک مشتعل نہیں ہوئے۔