Al-Fath • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ لِّيُدْخِلَ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّـَٔاتِهِمْ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عِندَ ٱللَّهِ فَوْزًا عَظِيمًۭا ﴾
“[and] that He might admit the believers, both men and women, into gardens through which running waters flow, therein to abide, and that He might efface their [past bad] deeds: and that is, in the sight of God, indeed a triumph supreme!”
یہاں’’سکینت‘‘ سے مراد اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ حدیبیہ کے سفر میں مخالفین اسلام نے طرح طرح سے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تاکہ وہ مشتعل ہو کر کوئی ایسی کارروائی کریں جس کے بعد ان کے خلاف جارحیت کا جواز مل جائے۔ مگر مسلمان ہر اشتعال کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتے رہے۔ وہ آخری حد تک اعراض کی پالیسی پر قائم رہے۔ خدا چاہے تو اپنی براہ راست قوت سے باطل کو زیر کردے، اور حق کو غلبہ عطا فرمائے۔ پھر خدا کیوں ایسا کرتا ہے کہ وہ ’’صلح حدیبیہ‘‘ جیسے حالات میں ڈال کر اہل ایمان کو ان کا سفر کراتا ہے۔ اس کا مقصد ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہے۔ آدمی جب اپنے اندر انتقام کی نفسیات کو دبائے اور ایک سرکش قوم سے اس لیے صلح کرلے کہ دعوت حق کا تقاضا یہی ہے تو وہ اپنے شعوری فیصلہ کے تحت وہ کام کرتا ہے جس کو کرنے کے لیے اس کا دل راضی نہ تھا۔ اس طرح وہ اپنے شعورِ ایمان کو بڑھاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایسی ربانی کیفیات کا مہبط بناتا ہے جس کو کسی اور تدبیر سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس عمل کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے جنت والے لوگ الگ ہوجاتے ہیں اور جہنم والے لوگ الگ۔