https://nabtah.net/ https://devrumaroof.techarea.co.id/ https://siami.uki.ac.id/ https://www.ir-webdesign.com/ https://matedu.matabacus.ac.ug/ https://www.banglatutorials.com/products https://www.kingdom-theology.id/ https://apdesign.cz/aktuality https://www.ir-webdesign.com/kontakt
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 15 من سورة سُورَةُ الحُجُرَاتِ

Al-Hujuraat • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا۟ وَجَٰهَدُوا۟ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلصَّٰدِقُونَ ﴾

“[Know that true] believers are only those who have attained to faith in God and His Apostle and have left all doubt behind, and who strive hard in God’s cause with their possessions and their lives: it is they, they who are true to their word!”

📝 التفسير:

مدینہ کے اطراف میں کئی چھوٹے چھوٹے قبیلے تھے۔ یہ لوگ ہجرت کے بعد اسلام میں داخل ہوگئے مگر ان کا اسلام کسی گہرے ذہنی انقلاب کا نتیجہ نہ تھا۔ اللہ کی نظر میں اسلام پر ایمان لانے والا وہ ہے جو اسلام کو ایک ایسی حقیقت کے طور پر پائے جو اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر جائے، جو لوگ اس خدا کے دین کو قبول کریں وہ ایک لازوال یقین کو پالیتے ہیں۔ وہ قربانی کی حد تک اس پر قائم رہنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ آدمی کوئی اچھا کام کرے تو وہ اس کا اظہار کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ حالانکہ اس قسم کا اظہار اس کے عمل کو باطل کردینے والا ہے۔ اچھا عمل حقیقۃً وہ ہے جو اللہ کے لیے کیا جائے۔ پھر اللہ جب خود ہر بات کو جانتا ہے تو اس کے اعلان و اظہار کی کیا ضرورت۔