Al-Hujuraat • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَرْفَعُوٓا۟ أَصْوَٰتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ ٱلنَّبِىِّ وَلَا تَجْهَرُوا۟ لَهُۥ بِٱلْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَٰلُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ ﴾
“O you who have attained to faith! Do not raise your voices above the voice of the Prophet, and neither speak loudly to him, as you would speak loudly to one another, lest all your [good] deeds come to nought without your perceiving it.”
اطراف مدینہ کے بدوی قبائل شعوری اعتبار سے زیادہ پختہ نہ تھے۔ ان کے سرداروں کا حال یہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آتے تو آپ کو مخاطب کرتے ہوئے یا رسول اللہ کہنے کے بجائے یا محمد کہتے۔ ان کی گفتگو متواضعانہ نہ ہوتی بلکہ متکبرانہ ہوتی۔ اس سے انہیں منع کیا گیا۔ رسول دنیا میں خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کے سامنے اس طرح کی ناشائستگی خدا کے سامنے ناشائستگی ہے، جو کہ آدمی کو بالکل بے قیمت بنا دینے والی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی لائی ہوئی ہدایت دنیا میں آپ کی قائم مقام ہے۔ اب اس مقدس ہدایت کے ساتھ وہی تابعداری مطلوب ہے جو تابعداری رسول کی زندگی میں رسول کی ذات کے ساتھ مطلوب ہوتی تھی۔ اللہ کا ڈر آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ کسی کے دل میں اگر واقعۃً اللہ کا ڈر پیدا ہوجائے تو وہ خود اپنے مزاج کے تحت وہ باتیں جان لے گا جس کو دوسرے لوگ بتانے کے بعد بھی نہیں جانتے۔