WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 5 من سورة سُورَةُ الحُجُرَاتِ

Al-Hujuraat • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا۟ حَتَّىٰ تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًۭا لَّهُمْ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ ﴾

“for, if they had the patience [to wait] until thou come forth to them [of thine own accord], it would be for their own good. Still, God is much forgiving, a dispenser of grace.”

📝 التفسير:

اطراف مدینہ کے بدوی قبائل شعوری اعتبار سے زیادہ پختہ نہ تھے۔ ان کے سرداروں کا حال یہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آتے تو آپ کو مخاطب کرتے ہوئے یا رسول اللہ کہنے کے بجائے یا محمد کہتے۔ ان کی گفتگو متواضعانہ نہ ہوتی بلکہ متکبرانہ ہوتی۔ اس سے انہیں منع کیا گیا۔ رسول دنیا میں خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کے سامنے اس طرح کی ناشائستگی خدا کے سامنے ناشائستگی ہے، جو کہ آدمی کو بالکل بے قیمت بنا دینے والی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی لائی ہوئی ہدایت دنیا میں آپ کی قائم مقام ہے۔ اب اس مقدس ہدایت کے ساتھ وہی تابعداری مطلوب ہے جو تابعداری رسول کی زندگی میں رسول کی ذات کے ساتھ مطلوب ہوتی تھی۔ اللہ کا ڈر آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ کسی کے دل میں اگر واقعۃً اللہ کا ڈر پیدا ہوجائے تو وہ خود اپنے مزاج کے تحت وہ باتیں جان لے گا جس کو دوسرے لوگ بتانے کے بعد بھی نہیں جانتے۔