Al-Hujuraat • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ ٱللَّهِ ۚ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِى كَثِيرٍۢ مِّنَ ٱلْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ ٱلْإِيمَٰنَ وَزَيَّنَهُۥ فِى قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ ٱلْكُفْرَ وَٱلْفُسُوقَ وَٱلْعِصْيَانَ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلرَّٰشِدُونَ ﴾
“And know that God’s Apostle is among you: were he to comply with your inclinations in each and every case, you would be bound to come to harm [as a community]. But as it is, God has caused [your] faith to be dear to you, and has given it beauty in your hearts, and has made hateful to you all denial of the truth, and all iniquity, and all rebellion [against what is good]. Such indeed are they who follow the right course”
کوئی آدمی دوسرے شخص کے بارے میں اگر ایسی خبر دے جس میں اس شخص پر کوئی الزام آتا ہو تو ایسی خبر کو محض سُن کر مان لینا ایمانی احتیاط کے سراسر خلاف ہے۔ سننے والے پر لازم ہے کہ وہ اس کی ضروری تحقیق کرے، اور جو رائے قائم کرے غیر جانب دارانہ تحقیق کے بعد کرے، نہ کہ تحقیق سے پہلے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب اس قسم کی خبر ایک شخص کو ملتی ہے تو اس کے ساتھی فوراً اس کے خلاف اقدام کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ یہ سخت غیر ذمہ داری کی بات ہے۔ نہ کسی آدمی کو ایسی خبر پر قبل از تحقیق کوئی رائے قائم کرنا چاہيے اور نہ اس کے ساتھیوں کو قبل از تحقیق اقدام کا مشورہ دینا چاہيے۔ جو لوگ واقعی ہدایت کے راستہ پر آجائیں ان کے اندر بالکل مختلف مزاج پیدا ہوتا ہے۔ دوسروں پر الزام تراشی سے انہیں نفرت ہوجاتی ہے۔ غیر تحقیقی بات پر بولنے سے زیادہ اس پر چپ رہنا پسند کرتے ہیں۔ ان کا یہ مزاج اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ان کو خدا کی رحمتوں میں سے حصہ ملا ہے۔ وہ ایمان فی الواقع ان کی زندگیوں میں اترا ہے جس کا وہ اپنی زبان سے اقرار کر رہے ہیں۔