https://nabtah.net/ https://devrumaroof.techarea.co.id/ https://siami.uki.ac.id/ https://www.ir-webdesign.com/ https://matedu.matabacus.ac.ug/ https://www.banglatutorials.com/products https://www.kingdom-theology.id/ https://apdesign.cz/aktuality https://www.ir-webdesign.com/kontakt
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 60 من سورة سُورَةُ الذَّارِيَاتِ

Adh-Dhaariyat • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ فَوَيْلٌۭ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن يَوْمِهِمُ ٱلَّذِى يُوعَدُونَ ﴾

“For, woe unto those who are bent on denying the truth - [woe] on the Day which they have been promised”

📝 التفسير:

خدا ہر قسم کا ذاتی اختیار رکھتا ہے۔ تاہم فرشتوں کو اس نے اپنی وسیع سلطنت کا انتظام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر انسانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان اس لیے پیدا نہیں کیے گئے کہ وہ خدا کی کسی شخصی یا انتظامی ضرورت کو پورا کریں۔ ان کی پیدائش کا واحد مقصد خدا کی عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکانا ہے، اپنے آپ کوپوری طرح خدا کا پرستار بنا دینا ہے۔ اس عبادت کا خلاصہ معرفت ہے۔ چنانچہ ابن عباس نے الا لیعبدون کی تشریح الا لیعرفون سے کی ہے(المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر 225 )۔ یہی تفسیر ابن جُرَیج (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 425 ) اور مجاہد تابعی (البحر المحيط، جلد 9، صفحہ 562 ) نے بھی کی ہے۔یعنی انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو بطور دریافت کے پائے۔ وہ بن دیکھے خدا کو پہچانے۔ اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجہ میں آدمی کی جو زندگی بنتی ہے اسی کو عبادت و بندگی کہا جاتا ہے۔ پانی کا ڈول بھرنے کے بعد ڈوب جاتا ہے اسی طرح آدمی کی مہلت عمل پوری ہونے کے بعد فوراً اس کی موت آجاتی ہے۔ جو شخص ڈول بھرنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلے اس نے اپنے آپ کو بچایا۔ اور جو شخص آخر وقت تک غافل رہا وہ ہلاک ہوگیا۔ ظالم لوگ اگر پکڑے نہ جارہے ہوں تو انہیں یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ وہ چھوڑ دیے گئے ہیں۔ وہ اس لیے آزاد ہیں کہ خدا کا طریقہ جلدی پکڑنے کا طریقہ نہیں، نہ اس لیے کہ خدا انہیں پکڑنے والا نہیں۔