https://nabtah.net/ https://devrumaroof.techarea.co.id/ https://siami.uki.ac.id/ https://www.ir-webdesign.com/ https://matedu.matabacus.ac.ug/ https://www.banglatutorials.com/products https://www.kingdom-theology.id/ https://apdesign.cz/aktuality https://www.ir-webdesign.com/kontakt
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 42 من سورة سُورَةُ الطُّورِ

At-Tur • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ أَمْ يُرِيدُونَ كَيْدًۭا ۖ فَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ هُمُ ٱلْمَكِيدُونَ ﴾

“Or do they want to entrap [thee in contradic­tions]? But they who are bent on denying the truth - it is they who are truly entrapped!”

📝 التفسير:

مدعو گروہ ہمیشہ مادہ پرستی کی سطح پر ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں مدعو کو اگر یہ احساس ہو کہ داعی اس سے اس کی کوئی مادی چیز لینا چاہتا ہے تو وہ فوراً اس کی طرف سے متوحش ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اپنے اور مخاطبین کے درمیان کسی قسم کے مادی مطالبہ کی بات کبھی نہیں آنے دیتا۔ وہ اپنے اور مخاطبین کے درمیان آخر وقت تک بے غرضی کی فضا باقی رکھتا ہے۔ خواہ اس کے لیے اسے یک طرفہ طور پر مادی نقصان برداشت کرنا پڑے۔ داعی جب اپنی دعوت کے حق میں اس حد تک سنجیدگی کا ثبوت دے دے تو اس کے بعد وہ خدا کی اس نصرت کا مستحق ہوجاتا ہے کہ منکرین کی ہر تدبیر ان کے اوپر الٹی پڑے۔ وہ کسی بھی طرح داعی کو مغلوب کرنے میں کامیاب نہ ہوں۔