An-Najm • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ ۞ وَكَم مِّن مَّلَكٍۢ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ لَا تُغْنِى شَفَٰعَتُهُمْ شَيْـًٔا إِلَّا مِنۢ بَعْدِ أَن يَأْذَنَ ٱللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرْضَىٰٓ ﴾
“For, however many angels there be in the heavens, their intercession can be of no least avail [to anyone] - except after God has given leave [to intercede] for whomever He wills and with whom He is well-pleased.”
پتھر کے بت بنا کر ان کو پوجنا، فرشتوں کو خدا کی بیٹی بتانا، سفارشوں کی بنیاد پر جنت کی امید رکھنا یہ سب غیر سنجیدہ عقیدے ہیں۔ اور غیر سنجیدہ عقیدے ہمیشہ اس ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ خوف لا یعنی کلام کا قاتل ہے۔ اور جو شخص بے خوف ہو اس کا دماغ لا یعنی کلام کا کارخانہ بن جائے گا۔ جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے لوگ دلیل اور معقولیت پر دھیان نہیں ديتے، اس لیے وہ امر حق کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ ان سے مقابلہ کرنے کی ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ ان سے اعراض کیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہر شخص کی اندرونی حالت کو جانتا ہے اور وہ اس کے مطابق ہر شخص سے معاملہ فرمائے گا۔