An-Najm • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ ٱلَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَٰٓئِرَ ٱلْإِثْمِ وَٱلْفَوَٰحِشَ إِلَّا ٱللَّمَمَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ وَٰسِعُ ٱلْمَغْفِرَةِ ۚ هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌۭ فِى بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ ۖ فَلَا تُزَكُّوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ ٱتَّقَىٰٓ ﴾
“As for those who avoid the [truly] grave sins and shameful deeds - even though they may sometimes stumble behold, thy Sustainer is abounding in forgiveness. He is fully aware of you when He brings you into being out of dust, and when you are still hidden in your mothers’ wombs: do not, then, consider yourselves pure - [for] He knows best as to who is conscious of Him.”
کائنات اپنے حد درجہ محکم نظام کے ساتھ بتا رہی ہے کہ اس کا خالق و مالک بے حد طاقت ور ہے۔ یہی واقعہ یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ وہ انسان کو پکڑے گا اور جب وہ انسان کو پکڑے گا تو کسی بھی شخص کے لیے اس کی پکڑ سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔ انسان کو بشری کمزوریوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے انسان سے فرشتوں جیسی پاکیزگی کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پوری طرح بتا دیا ہے کہ اس کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ تاہم انسان کے لیے ’’لَمَمَ‘‘ کی معافی ہے۔ یعنی وقتی جذبہ کے تحت کسی برائی میں پڑجانا، بشرطیکہ آدمی فوراً بعد ہی اس کو محسوس کرے اور شرمندہ ہو کر اپنے رب سے معافی مانگے۔