WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 33 من سورة سُورَةُ الرَّحۡمَٰن

Ar-Rahmaan • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ يَٰمَعْشَرَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ إِنِ ٱسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا۟ مِنْ أَقْطَارِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ فَٱنفُذُوا۟ ۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَٰنٍۢ ﴾

“O you who live in close communion with [evil] invisible beings and humans! If you [think that you] can pass beyond the regions of the heavens and the earth, pass beyond them! [But] you cannot pass beyond them, save by a sanction [from God]!”

📝 التفسير:

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ جب تک امتحان کی مدت ختم نہیں ہوتی ہر شخص سرکشی کرنے کے لیے آزاد ہے۔ مگر کامل آزادی کے باوجود کوئی جن و انس اس پر قادر نہیں کہ وہ کائنات کی حدود سے باہر چلا جائے۔ یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ انسان پوری طرح خدا کی گرفت میں ہے امتحان کی مدت ختم ہونے پر جب وہ لوگوں کو پکڑے گا تو کسی کے لیے ممکن نہ ہوگا کہ اس سے اپنے آپ کو بچا سکے۔