Al-Hashr • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ كَمَثَلِ ٱلشَّيْطَٰنِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَٰنِ ٱكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّنكَ إِنِّىٓ أَخَافُ ٱللَّهَ رَبَّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴾
“the like of [what happens] when Satan says unto man, “Deny the truth!” - but as soon as [man] has denied the truth, [Satan] says, “Behold, I am not responsible for thee: behold, I fear God, the Sustainer of all the worlds!””
مدینہ کے منافقین بنو نضیر کو مسلمانوں کے خلاف ابھار رہے تھے۔ انہوں نے اس واقعہ سے سبق نہیں لیا کہ جلد ہی پہلے قریش اور قبیلہ بنو قینقاع ان کے خلاف اٹھے۔ مگر ان کو زبردست شکست ہوئی۔ جو لوگ شیطان کو اپنا مشیر بنائیں ان کا حال ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ وہ واقعات سے نصیحت نہیں لیتے۔ پہلے وہ جوش و خروش کے ساتھ لوگوں کو مجرمانہ افعال پر ابھارتے ہیں۔ پھر جب اس کا بھیانک انجام سامنے آتا ہے تو وہ طرح طرح کے الفاظ بول کر یہ چاہتے ہیں کہ اس کی ذمہ داری سے اپنے آپ کو بری کرلیں۔ مگر اس قسم کی کوششیں ایسے لوگوں کو اللہ کی پکڑ سے بچانے والی ثابت نہیں ہوسکتیں۔