WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 157 من سورة سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Al-An'aam • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ أَوْ تَقُولُوا۟ لَوْ أَنَّآ أُنزِلَ عَلَيْنَا ٱلْكِتَٰبُ لَكُنَّآ أَهْدَىٰ مِنْهُمْ ۚ فَقَدْ جَآءَكُم بَيِّنَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًۭى وَرَحْمَةٌۭ ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا ۗ سَنَجْزِى ٱلَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ ءَايَٰتِنَا سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ بِمَا كَانُوا۟ يَصْدِفُونَ ﴾

“or lest you say, "If a divine writ had been bestowed from on high upon us, we would surely have followed its guidance better than they did." And so, a clear evidence of the truth has now come unto you from your Sustainer, and guidance, and grace. Who, then, could be more wicked than he who gives the lie to God's messages, and turns away from them in disdain? We shall requite those who turn away from Our messages in disdain with evil suffering for having thus turned away!”

📝 التفسير:

خدا کی طرف سے جو کتاب آتی ہے اس میں اگرچہ بہت سی تفصیلات ہوتی ہیں مگر بالآخر اس کا مقصد صرف ایک ہوتا ہے۔ یہ کہ آدمی اپنے رب کی ملاقات پر یقین کرے۔ یعنی دنیا میں وہ اس طرح زندگی گزارے کہ وہ اپنے ہر عمل کے ليے اپنے آپ کو خدا کے یہاں جواب دہ سمجھتا ہو۔ اس کی زندگی ایک ذمہ دارانہ زندگی ہو، نہ کہ آزاد اور بے قید زندگی۔ یہی پچھلی کتابوں کا مقصد تھا اور یہی قرآن کا مدعا بھی ہے۔ خدا نے بقیہ دنیا کو براہِ راست اپنے جبری حکم کے تحت اپنا پابند بنا رکھا ہے۔ مگر انسان کو اس نے پورا اختیار دے دیا ہے۔ اس نے انسان کی ہدایت کا یہ طریقہ رکھا ہے کہ رسول اور کتاب کے ذریعہ دلائل کی زبان ميں وہ لوگوں کو حق اور باطل سے باخبر کرتا ہے۔ دنیا میں خدا کی مرضی لوگوں کے سامنے دلیل کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہاں دلیل کو ماننا خدا کو ماننا ہے اور دلیل کو جھٹلانا خدا کو جھٹلانا۔ قیامت کا دھماکہ ہونے کے بعد تمام چھپی ہوئی حقیقتیں لوگوں کے سامنے آجائیں گی۔ اس وقت ہر آدمی خدا اور اس کی باتوں کو ماننے پر مجبور ہوگا۔ مگر اس وقت کے ماننے کی کوئی قیمت نہیں۔ ماننا وہی ماننا ہے جو حالتِ غیب میں ماننا ہو۔ ایمان دراصل یہ ہے کہ دیکھنے کے بعد آدمی جو کچھ ماننے پر مجبور ہوگا اس کو وہ دیکھے بغیر مان لے۔ جو شخص دیکھ کر مانے اس نے گویا مانا ہی نہیں۔ جو لوگ آج اختیار کی حالت میں اپنے کو خدا کا پابند بنالیں ان کے لیے خدا کے یہاں جنت ہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ قیامت کے آنے کے بعد خدا کے آگے جھکیں گے ان کا جھکنا صرف ان کے جرم کو مزید ثابت کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ اُس کا مطلب یہ ہوگا کہ انھوں نے خود اپنے اعتراف کے مطابق، ایک ماننے والی بات کو نہ مانا، انھوں نے ايك كيے جانے والے کام کو نہ کیا۔