As-Saff • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ يَٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَنِى وَقَد تَّعْلَمُونَ أَنِّى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُمْ ۖ فَلَمَّا زَاغُوٓا۟ أَزَاغَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُمْ ۚ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْفَٰسِقِينَ ﴾
“Now when Moses spoke to his people, [it was this same truth that he had in mind:] "O my people! Why do you cause me grief, the while you know that I am an apostle of God sent unto you?" And so, when they swerved from the right way, God let their hearts swerve from the truth: for God does not bestow His guidance upon iniquitous folk.”
حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے درمیان آئے۔ بنی اسرائیل اس وقت ایک زوال یافتہ قوم تھے۔ ان کے اندر یہ حوصلہ باقی نہیں رہا تھا کہ جو کہیں وہی کریں۔ اور جو کریں وہی کہیں۔ چنانچہ ان کا حال یہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کے ہاتھ پر ایمان کا اقرار بھی کرتے تھے اور اسی کے ساتھ ہر قسم کی بدعہدی اور نافرمانی میں بھی مبتلا رہتے تھے۔ حتی کہ حضرت موسیٰ کے ساتھ اپنے برے سلوک کو جائز ثابت کرنے کے لیے وہ خود حضرت موسیٰ پر جھوٹے جھوٹے الزام لگاتے تھے۔ بائبل میں خروج اور گنتی کے ابواب میں اس کی تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔ عہد کرنے کے بعد عہد کی خلاف ورزی آدمی کو پہلے سے بھی زیادہ حق سے دور کردیتی ہے۔