At-Taghaabun • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ ﴾
“But as for those who are bent on denying the truth and on giving the lie to Our messages - they are destined for the fire, therein to abide: and how vile a journey’s end!”
کوئی مصیبت اپنے آپ نہیں آتی، ہر مصیبت خدا کی طرف سے آتی ہے۔ اور اس لیے آتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کو ہدایت عطا کی جائے۔ مصیبت آدمی کے دل کو نرم کرتی ہے۔ اور اس کی سوئی ہوئی نفسیات میں ہلچل پیدا کرتی ہے۔ مصیبت کے جھٹکے آدمی کے ذہن کو جگانے کا کام کرتے ہیں۔ اگر آدمی اپنے آپ کو منفی رد عمل سے بچائے تو مصیبت اس کے لیے بہترین ربانی معلم بن جائے گی۔