At-Taghaabun • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ مَا ٱسْتَطَعْتُمْ وَٱسْمَعُوا۟ وَأَطِيعُوا۟ وَأَنفِقُوا۟ خَيْرًۭا لِّأَنفُسِكُمْ ۗ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِۦ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ﴾
“Remain, then, conscious of God as best you can, and listen [to Him], and pay heed. And spend in charity for the good of your own selves: for, such as from their own covetousness are saved – it is they, they that shall attain to a happy state!”
انسان کو سب سے زیادہ تعلق اپنی اولاد سے ہوتا ہے۔ آدمی ہر دوسرے معاملے میں اصول کی باتیں کرتا ہے مگر جب اپنی اولاد کا معاملہ آتا ہے تو وہ بے اصول بن جاتا ہے۔ اسی لیے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اولاد کسی آدمی کو بزدلی اور بخل پر مجبور کرنے والے ہیں (إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3666۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ اس کے بیوی بچے اس کی نیکیاں کھا گئے (يُؤتَى بِرَجُلٍ يومَ القِيامَةِ، فيُقالُأكَلَ عيالُه حَسَنَاتِه) تخریج احادیث الکشاف للزیلعی، حدیث نمبر 1357 انسان اپنے بچوں کی خاطر اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا۔ حالانکہ اگر وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو مختلف شکلوں میں اللہ اس کی طرف اس سے بہت زیادہ لوٹائے گا جتنا اس نے اللہ کی راہ میں دیا تھا۔