At-Taghaabun • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَؤُا۟ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَبْلُ فَذَاقُوا۟ وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ ﴾
“HAVE THE STORIES of those who, in earlier times, refused to acknowledge the truth never yet come within your ken? [They denied it -] and so they had to taste the evil outcome of their own doings, with [more] grievous suffering awaiting them [in the life to come]:”
قدیم زمانہ میں رسولوں کے ذریعہ جو تاریخ بنی وہ انسانوں کے لیے مستقل نمونہ عبرت ہے۔ مثلاً عاد اور ثمود اور اہل مدین اور قوم لوط وغیرہ کے درمیان پیغمبر آئے۔ ان پیغمبروں کے پاس اپنی صداقت بتانے کے لیے کوئی غیر بشری کمال نہ تھا، بلکہ صرف دلیل تھی۔ دلیل کی سطح پر انکار نے ان قوموں کو عذاب کا مستحق بنا دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ دلیل کی سطح پر حق کو پہچانے۔ جو شخص دلیل کی سطح پر حق کو پہچاننے میں ناکام رہے، وہ ہمیشہ کے لیے حق سے محروم ہو کر رہ جائے گا۔