At-Taghaabun • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ زَعَمَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَن لَّن يُبْعَثُوا۟ ۚ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّى لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۚ وَذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٌۭ ﴾
“They who are bent on denying the truth claim that they will never be raised from the dead! Say: "Yea, by my Sustainer! Most surely will you be raised from the dead, and then, most surely, will you be made to understand what you did [in life]! For, easy is this for God!"”
کوئی مصیبت اپنے آپ نہیں آتی، ہر مصیبت خدا کی طرف سے آتی ہے۔ اور اس لیے آتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کو ہدایت عطا کی جائے۔ مصیبت آدمی کے دل کو نرم کرتی ہے۔ اور اس کی سوئی ہوئی نفسیات میں ہلچل پیدا کرتی ہے۔ مصیبت کے جھٹکے آدمی کے ذہن کو جگانے کا کام کرتے ہیں۔ اگر آدمی اپنے آپ کو منفی رد عمل سے بچائے تو مصیبت اس کے لیے بہترین ربانی معلم بن جائے گی۔