At-Taghaabun • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ ٱلْجَمْعِ ۖ ذَٰلِكَ يَوْمُ ٱلتَّغَابُنِ ۗ وَمَن يُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ وَيَعْمَلْ صَٰلِحًۭا يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّـَٔاتِهِۦ وَيُدْخِلْهُ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ ﴾
“[Think of] the time when He shall gather you all together unto the Day of the [Last] Gathering - that Day of Loss and Gain! For, as for him who shall have believed in God and done what is just and right, He will [on that Day] efface his bad deeds, and will admit him into gardens through which running waters flow, therein to abide beyond the count of time: that will be a triumph supreme!”
کوئی مصیبت اپنے آپ نہیں آتی، ہر مصیبت خدا کی طرف سے آتی ہے۔ اور اس لیے آتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کو ہدایت عطا کی جائے۔ مصیبت آدمی کے دل کو نرم کرتی ہے۔ اور اس کی سوئی ہوئی نفسیات میں ہلچل پیدا کرتی ہے۔ مصیبت کے جھٹکے آدمی کے ذہن کو جگانے کا کام کرتے ہیں۔ اگر آدمی اپنے آپ کو منفی رد عمل سے بچائے تو مصیبت اس کے لیے بہترین ربانی معلم بن جائے گی۔