At-Talaaq • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا۟ ٱلْعِدَّةَ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ رَبَّكُمْ ۖ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنۢ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّآ أَن يَأْتِينَ بِفَٰحِشَةٍۢ مُّبَيِّنَةٍۢ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُۥ ۚ لَا تَدْرِى لَعَلَّ ٱللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرًۭا ﴾
“O PROPHET! When you [intend to divorce women, divorce them with a view to the waiting period appointed for them, and reckon the period [carefully], and be conscious of God, your Sustainer. Do not expel them from their homes; and neither shall they [be made to] leave unless they become openly guilty of immoral conduct. These, then, are the bounds set by God - and he who transgresses the bounds set by God does indeed sin against himself: [for, O man, although] thou knowest it not, after that [first breach] God may well cause something new to come about.”
اسلام میں استثنائی طور پر طلاق کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم اس کا ایک طریقِ کار مقرر کیا گیا ہے جو خاص وقفہ کے درمیان پورا ہوتا ہے۔ اس طرح طلاق کے عمل کو کچھ حدود کا پابند کردیا گیا ہے۔ ان حدود کا مقصد یہ ہے کہ فریقین کے درمیان آخروقت تک واپسی کا موقع باقی رہے۔ اور طلاق کا واقعہ کسی قسم کے خاندانی یا سماجی فساد کا ذریعہ نہ بنے— وہی طلاق اسلامی طلاق ہے جس کے پورے عمل کے دوران خدا کے خوف کی روح جاری و ساری رہے۔