WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 4 من سورة سُورَةُ الطَّلَاقِ

At-Talaaq • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَٱلَّٰٓـِٔى يَئِسْنَ مِنَ ٱلْمَحِيضِ مِن نِّسَآئِكُمْ إِنِ ٱرْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَٰثَةُ أَشْهُرٍۢ وَٱلَّٰٓـِٔى لَمْ يَحِضْنَ ۚ وَأُو۟لَٰتُ ٱلْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجْعَل لَّهُۥ مِنْ أَمْرِهِۦ يُسْرًۭا ﴾

“Now as for such of your women as are beyond, the age of monthly courses, as well as for such as do not have any courses, their waiting-period - if you have any doubt [about it] - shall be three [calendar] months; and as for those who are with child, the end of their waiting-term shall come when they deliver their burden. And for everyone who is conscious of God, He makes it easy to obey His commandment:”

📝 التفسير:

شریعت نے طلاق اور دوسرے معاملات میں انسان کو کچھ ضوابط کا پابند کیا ہے۔ یہ ضوابط بظاہر انسان کی آزادانہ طبیعت کے لیے رکاوٹ ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے یہ نعمت ہیں۔ ان ضوابط کا یہ فائدہ ہے کہ آدمی بہت سے غیر ضروری نقصانات سے بچ جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اس دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں ہر نقصان کی تلافی کسی نہ کسی طرح کی جاتی ہے۔ تاہم یہ تلافی صرف اس شخص کے حصہ میں آتی ہے جو فطرت کے دائرہ سے باہر نہ جائے۔