Al-Mulk • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ أَفَمَن يَمْشِى مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِۦٓ أَهْدَىٰٓ أَمَّن يَمْشِى سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ ﴾
“But then, is he that goes along with his face close to the ground better guided than he that walks upright on a straight way?”
انسان کو سننے اور دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ اب کوئی انسان وہ ہے کہ جو کچھ سنا اسی پر چل پڑا، جو دیکھا اس کو بس اس کے ظاہر کے اعتبار سے مان لیا۔ جو بات ایک بار ذہن میں آگئی اسی پر جم گیا۔ یہ انسان وہ ہے جو جانور کی طرح سرجھکائے ہوئے بس ایک ڈگر پر چلا جا رہا ہے۔ دوسرا انسان وہ ہے جو سنی ہوئی بات کی تحقیق کرے۔ جو دیکھی ہوئی بات کو مزید زیادہ صحت کے ساتھ جاننے کی کوشش کرے۔ جو اپنے ذاتی خول سے باہر نکل کر سچائی کو دریافت کرے۔ یہ دوسرا انسان وہ ہے جو سیدھا ہو کر ایک ہموار راستہ پر چلا جا رہا ہے— سمع و بصر و فواد کی صلاحیت آدمی کو اس لیے دی گئی ہے کہ وہ حق کو پہچانے، نہ یہ کہ وہ اندھے بہرے کی طرح اس سے بے خبر رہے۔