WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 30 من سورة سُورَةُ المُلۡكِ

Al-Mulk • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًۭا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَآءٍۢ مَّعِينٍۭ ﴾

“Say [unto those who deny the truth]: "What do you think? If of a sudden all your water were to vanish underground, who [but God] could provide you with water from [new] unsullied springs?"”

📝 التفسير:

مخاطب جب دلیل سے نہ مانے تو داعی یقین کا کلمہ بول کر اس کے اندرون کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ آیتیں گویا اسی قسم کے یقین کے کلمات ہیں۔ آدمی کے اندر اگر کچھ بھی احساس زندہ ہو تو یہ آخری کلمات اس کو تڑپا دیتے ہیں۔ مگر جس شخص کا احساس بالکل بجھ چکا ہو وہ کسی تدبیر سے بھی نہیں جاگتا۔ وہ ’’پانی‘‘ کی قیمت کو صرف اس وقت تسلیم کرتا ہے جب کہ اس کو پانی سے محروم کرکے صحرا میں ڈال دیا گیا ہو۔