Al-Mulk • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَلَقَدْ زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنْيَا بِمَصَٰبِيحَ وَجَعَلْنَٰهَا رُجُومًۭا لِّلشَّيَٰطِينِ ۖ وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ ٱلسَّعِيرِ ﴾
“And, indeed, We have adorned the skies nearest to the earth with lights, and have made them the object of futile guesses for the evil ones [from among men]: and for them have We readied suffering through a blazing flame –”
آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔