WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 132 من سورة سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Al-A'raaf • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَقَالُوا۟ مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِۦ مِنْ ءَايَةٍۢ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ ﴾

“And they said [unto Moses]: "Whatever sign thou mayest produce before us in order to cast a spell upon us thereby, we shall not believe thee!"”

📝 التفسير:

کسی بات کو غلط کہنا ہو تو اس کا غلط ہونا لفظوں کی صورت میں بتایا جاتاہے اور کسی بات کو صحیح کہنا ہو تو اس کو بھی لفظوں ہی کے ذریعہ صحیح کہا جاتا ہے۔ اسی طرح کسی کو مجرم قرار دینا ہو تو اس کو لفظوں کے ذریعہ مجرم قرار دیا جاتاہے اور اگر کسی کو برسرِ حق ظاہرکرنا ہو تو اس کا برسرِ حق ہونا بھی لفظوں میں بتایا جاتاہے۔ مگر الفاظ کا استعمال کرنے والا انسان ہے اور موجودہ امتحان کی دنیا میں انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ الفاظ کو جس طرح چاہے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے۔ امتحان کی اس دنیا میں آدمی کو جو آزادی دی گئی ہے اس میں سب سے زیادہ نازک آزادی یہ ہے کہ وہ حق کو باطل کہنے کے لیے بھی الفاظ پالیتاہے اور باطل کو حق کہنے کے لیے بھی۔ وہ ایک کھلے ہوئے پیغمبرانہ معجزے کو جادو کہہ کر نظر انداز کرسکتاہے۔ خدا اس کو کوئی نعمت دے تو وہ اس کو ایسے الفاظ میں بیان کرسکتاہے گویا کہ اس کو جو کچھ ملا ہے اپنی صلاحیتوں اور کوششوں کی بدولت ملا ہے۔ حق کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے خدا اس کے اوپر کوئی تنبیہی سزا بھیجے تو وہ آزاد ہے کہ اس کو وہ انھیں خدا پرست بندوں کی نحوست کا نتیجہ قرار دے دے جن کے ساتھ برا رویہ اختیار کرنے ہی کی وجہ سے اس پر یہ تنبیہ آئی ہے۔ خدا کی طرف سے ہر بات اس ليے آتی ہے کہ آدمی اس سے نصیحت پکڑے۔ مگر الفاظ کے ذریعے آدمی ہر نصیحت کو ایک الٹا رخ دے دیتاہے اور اس کے اندر جو سبق کا پہلو ہے اس کو پانے سے محروم رہ جاتاہے۔ ’’تم خواہ کوئی بھی نشانی دکھاؤ ہم ایمان نہیں لائیں گے‘‘۔ فرعون کا یہ جملہ بتاتا ہے کہ حق اپنی مکمل صورت میں موجود ہونے کے باوجود صرف اسی کو ملتا ہے جو اس کو پانا چاہے۔ بالفاظ دیگر، جو شخص حق کے معاملے میں سنجیدہ ہو، جس کے اندر فی الواقع یہ آمادگی ہو کہ حق خواہ جہاں اور جس صورت میں بھی ملے وہ اس کو لے لے گا، اُس پر حق کا حق ہونا کھلتاہے۔ اِس کے برعکس، جو شخص اس معاملے میں سنجیدہ نہ ہو، جس کا حال یہ ہو کہ جو کچھ اس کے پاس ہے بس اسی پر وہ مطمئن ہے، وہ حق کو حق کی صورت میں دیکھنے سے عاجز رہے گا اور اسی ليے وہ اس کو اختیار بھی نہ کرسکے گا۔ اپنے حال پر مگن رہنا آدمی کو اپنے باہر کی چیزوں کے ليے بے خبر بنادیتاہے۔ وہ جان کر بھی نہیں جانتا، وہ سن کر بھی نہیں سنتا۔ آدمی اگر غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے تو وہ ضرور حقیقت کو پالے گا۔ مگر اکثر لوگ اپنے نفسیات کے زیر اثر رائے قائم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حقیقت کو پانے میں ناکام رہتے ہیں۔