Al-A'raaf • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَإِذْ أَنجَيْنَٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ ۖ يُقَتِّلُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌۭ ﴾
“And [he reminded them of this word of God]: "Lo, We saved you from Pharaoh's people who afflicted you with cruel suffering, slaying your sons in great numbers and sparing [only] your women - which was an awesome trial from your Sustainer."”
بنی اسرائیل بحر احمر کے شمالی سرے کو پار کرکے جزیرہ نمائے سینا میں پہنچے۔ پھر شمال سے جنوب کی طرف سمندر کے کنارے کنارے اپنا سفر شروع کیا۔ اس درمیان میں کسی مقام سے گزرتے ہوئے بنی اسرائیل نے ایک قوم کو دیکھا کہ وہ بت کی پرستش میں مشغول ہے۔ اس وقت بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے (نہ کہ سارے بنی اسرائیل نے) یہ تقاضا کیا کہ ان کے ليے ایک بت بنادیا جائے۔ آدمی کی سب سے بڑی کمزوری ظاہر پرستی ہے۔ وہ غیب میں چھپے ہوئے خدا پر اپنا ذہن پوری طرح جما نہیں پاتا۔ اس ليے وہ کسی نہ کسی ظاہری چیز میں اٹک کر رہ جاتا ہے۔ کچھ بے شعور لوگ پتھر اور دھات کے بنے ہوئے بتوں کے آگے جھکتے ہیں۔ اور جو لوگ زیادہ مہذب ہیں وہ کسی شخصیت، کسی قوم یا کسی تمدنی ڈھانچہ کو اپنا مرکز توجہ بنالیتے ہیں۔ بنی اسرائیل کے کچھ افراد نے جب حضرت موسیٰ سے ظاہری بت گھڑنے کی فرمائش کی تو آپ نے فرمایا كه یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں وہ سب برباد کیا جانے والا ہے۔ یعنی ہمارا مشن تویہ ہے کہ ہم ان ظاہری خداؤں کو توڑ کر ختم کردیں اور آدمی کو پوری طرح صرف ایک خدا کا پرستار بنائیں۔ پھرکیسے ممکن ہے کہ ہم خود ہی اس قسم کا ایک ظاہری خدا اپنے ليے گھڑ لیں۔ ’’بنی اسرائیل کو تمام اہل عالم پر فضیلت دی‘‘سے مراد کسی قسم کی نسلی فضیلت نہیں ہے بلکہ منصبی فضیلت ہے۔ یہ اسی معنی میں ہے جس میں امت محمدی کے بارے میں کہاگیا ہے کہ ’’تم خیر امت ہو‘‘۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی گروہ کو اپنی کتاب کا حامل بناتا ہے اور اس کے ذریعہ دوسری اقوام تک اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ منصب بنی اسرائیل (یہود) کو حاصل تھا، ختم نبوت کے بعد یہ منصب امت محمدی کو دیاگیا ہے۔ فرعون کو یہ موقع ملنا کہ وہ بنی اسرائیل پر ظلم کرے۔ یہ بنی اسرائیل کے ليے بطور آزمائش تھا، نہ کہ بطور عذاب۔ اس طرح کی آزمائش اس ليے ہوتی ہے کہ اہلِ ایمان کو جھنجھوڑ کر بیدار کیا جائے۔ یہ معلوم کیا جائے کہ کون مشکل حالات میں خدا کے دین سے پھر جاتاہے اور کون ہے جو صبر کی حد تک خدا کے دین پر قائم رہنے والا ہے۔