WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 142 من سورة سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Al-A'raaf • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ ۞ وَوَٰعَدْنَا مُوسَىٰ ثَلَٰثِينَ لَيْلَةًۭ وَأَتْمَمْنَٰهَا بِعَشْرٍۢ فَتَمَّ مِيقَٰتُ رَبِّهِۦٓ أَرْبَعِينَ لَيْلَةًۭ ۚ وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَٰرُونَ ٱخْلُفْنِى فِى قَوْمِى وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ ٱلْمُفْسِدِينَ ﴾

“AND [then] We appointed for Moses thirty nights [on Mount Sinai]; and We added to them ten, whereby the term of forty nights set bye, his Sustainer was fulfilled. And Moses said unto his brother Aaron: "Take thou my place among my people; and act righteously, and follow not the path of the spreaders of corruption."”

📝 التفسير:

حضرت ہارون موسی کے بڑے بھائی تھے، حضرت موسیٰ کی عمر ان سے تین سال کم تھی۔ مگر نبوت اصلاً حضرت موسیٰ کو ملی اور حضرت ہارون ان کے ساتھ صرف مددگار کی حیثیت سے شریک كيے گئے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ دینی عہدوں کی تقسیم میں اصل اہمیت استعداد کی ہے، نہ کہ عمر یا اسی قسم کی دوسری اضافی چیزوں کی۔ حضرت موسی کو مصر میں دعوتی احکام ديے گئے تھے اور صحرائے سینا میں پہنچنے کے بعد پہاڑی پر بلاکر قانونی احکام ديے گئے۔ اس سے خدائی احکام کی ترتیب معلوم ہوتی ہے۔ عام حالات میں خدا پرستوں سے جو چیز مطلوب ہے، وہ یہ کہ وہ ذاتی زندگی کو درست کریں،اور خدا کے پرستار بن کر رہیں۔ اسی کے ساتھ دوسروں کو بھی توحید وآخرت کی طرف بلائیں۔ مگر جب اہل ایمان آزاد اور بااختیار گروہ کی حیثیت حاصل کرلیں ، جیسا کہ صحرائے سینا میں بنی اسرائیل تھے، تو ان پر یہ فرض بھی عائد ہوجاتا ہے کہ اپنی اجتماعی زندگی کو شرعی قوانین کی بنیاد پر قائم کریں۔ حضرت موسیٰ نے اپنی غیر موجودگی کے لیے جب حضرت ہارون کو بنی اسرائیل کا نگراں بنایا تو فرمایا أَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ 7:142 ) )اس سے معلوم ہوتاہے کہ اجتماعی سربراہ کے ليے اپنی ذمہ دایوں کو ادا کرنے کا بنیادی اصول کیا ہے۔ وہ ہے — اصلاح اور مفسدین کی پیروی نہ کرنا۔ اصلاح سے مراد یہ ہے کہ مختلف افراد کے درمیان انصاف کا توازن کسی حال میں ٹوٹنے نہ دیا جائے۔ ہر ایک کو وہی ملے جو اس کو از روئے عدل ملنا چاہيے اور ہر ایک سے وہی چھینا جائے جو ازروئے عدل اس سے چھینا جانا چاہیے۔ اس اصلاحی عمل میں اکثر وقت خرابی پیدا ہوتی ہے جب کہ سردار ’’مفسدین‘‘ کی پیروی کرنے لگے ۔ یہ پیروی کبھی اس شکل میں ہوتی ہے کہ اس کے مقربین اپنے ذاتی اغراض کی بنا پر جو کچھ کہیں وہ ان کو مان لے۔ اور کبھی اس طرح ہوتی ہے کہ مفسدین کی طاقت سے خوف زدہ ہو کر وہ خاموشی اختیار کرلے۔ حضرت موسیٰ نے خدا کو دیکھنا چاہا اور جب معلوم ہوا کہ خدا کو دیکھنا ممکن نہیں تو انھوں نے توبہ کی اور بغیر دیکھے ایمان کا اقرار کیا— انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ دیکھے بغیر خدا کو مانے۔ خدا کو دیکھنا ایک اخروی انعام ہے پھر وہ موجودہ دنیا میں کیوں کر ممکن ہوسکتا ہے۔