WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 146 من سورة سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Al-A'raaf • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ سَأَصْرِفُ عَنْ ءَايَٰتِىَ ٱلَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَإِن يَرَوْا۟ كُلَّ ءَايَةٍۢ لَّا يُؤْمِنُوا۟ بِهَا وَإِن يَرَوْا۟ سَبِيلَ ٱلرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًۭا وَإِن يَرَوْا۟ سَبِيلَ ٱلْغَىِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًۭا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَكَانُوا۟ عَنْهَا غَٰفِلِينَ ﴾

“From My messages shall I cause to turn away all those who, without any right, behave haughtily on earth: for, though they may see every sign [of the truth], they do not believe in it, and though they may see the path of rectitude, they do not choose to follow it-whereas, if they see a path of error, they take it for their own: this, because they have given the lie to Our messages, and have remained heedless of them,"”

📝 التفسير:

دنیا میں زندگی گزارنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی نے اپنی آنکھ اور کان کھلے رکھے ہوں۔ وہ چیزوں کو ان کے اصلی رنگ میں دیکھتا اور سنتا ہو۔ ایسے آدمی کے سامنے حق آئے گا تو وہ اس کو پہچان لے گا۔ دنیا میں بکھری ہوئی خدائی نشانیاں اس کو جو سبق دیں گی وہ ان کو پالے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی متکبرانہ نفسیات کے ساتھ جی رہا ہو۔ وہ زمین میں اس طرح رہتا ہو جیسے وہ اس کا مالک ہے، اس کواپنے ذاتی داعیات کے سوا کسی اور چیز کی پروا نہ ہو۔ وہ سمجھتا ہو کہ یہاں جو کچھ اسے مل رہا ہے وہ اپنی لیاقت کی وجہ سے مل رہا ہے۔ اپنی ملی ہوئی چیزوں میں اس کو کسی اور کی مرضی کا لحاظ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس دوسرے آدمی کا استغناء اس کے ليے قبول حق میں رکاوٹ بن جائے گا۔ پہلے آدمی کی نفسیات لینے والی نفسیات ہوتی ہے۔ وہ اپنے کھلے ذہن کی وجہ سے خدا کے ہر اشارہ کو پڑھ لیتاہے۔ اور فوراً اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیتاہے۔ اس کے برعکس، دوسرے آدمی کی نفسیات بے نیازی کی نفسیات ہوتی ہے۔ اس کے سامنے حق کے دلائل آتے ہیں مگر وہ ان کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتاہے۔ اس کے سامنے قدرت خاموش زبان میں اپنا نغمہ چھیڑتی ہے مگر وہ اس پر دھیان دینے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ اس کو اپنے سے باہر کسی سچائی کی طرف رغبت نہیںہوتی — موت کے بعد آنے والی دنیا صرف پہلے لوگوں کے لیے ہے۔ دوسرے لوگ خدا کی ابدی دنیا میں اسی طرح نظر انداز کرديے جائیں گے جس طرح موجودہ امتحان کی دنیا میں وہ خدا کی بات کو نظر انداز كيے ہوئے تھے۔ گمراہی کا راستہ نفس کے محرکات کے تحت بنتا ہے اور ہدایت کا راستہ وہ ہے جو نفس اور ماحول کے اثرات سے اوپر اٹھ کر خالص خدا کے ليے وجود میں آتاہے۔ اب جو لوگ اپنی ذات کی سطح پر جی رہے ہوں، جو صرف اپنے نفس کے اندر ابھرنے والے داعیات کو جانتے ہوں وہ گمراہی کے راستے کو عین اپنی چیز سمجھ کر اس کی طرف دوڑ پڑیں گے۔ ہدایت کا راستہ ان کو اپنے مزاج کے اعتبار سے اجنبی دکھائی دے گا اس ليے وہ اس کی طرف بڑھنے میں بھی ناکام ثابت ہوں گے۔ بڑا ئی کی نفسیات اس چیز کو بآسانی قبول کرلیتی ہے جس میں اس کی بڑائی باقی رہے۔ اور جہاں اس کی بڑائی مشتبہ ہوتی ہو اس سے اسے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔