Al-A'raaf • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ ۞ وَٱكْتُبْ لَنَا فِى هَٰذِهِ ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ وَفِى ٱلْءَاخِرَةِ إِنَّا هُدْنَآ إِلَيْكَ ۚ قَالَ عَذَابِىٓ أُصِيبُ بِهِۦ مَنْ أَشَآءُ ۖ وَرَحْمَتِى وَسِعَتْ كُلَّ شَىْءٍۢ ۚ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلَّذِينَ هُم بِـَٔايَٰتِنَا يُؤْمِنُونَ ﴾
“And ordain Thou for us what is good in this world as well as in the life to come: behold, unto Thee have we turned in repentance!" [God] answered: "With My chastisement do I afflict whom I will - but My grace overspreads everything: and so I shall confer it on those who are conscious of Me and spend in charity, and who believe in Our messages-”
بنی اسرائیل کے بچھڑا بنانے سے یہ ظاہر ہوا تھا کہ ان کے اندر خدا پر وہ یقین نہیں ہے جو ہونا چاہیے۔ چنانچہ ان کو پہاڑ پر بلایا گیا۔ حضرت موسیٰ مقرره وقت کے مطابق بنی اسرائیل کے 70نمائندہ افراد کو لے کر دوبارہ کوہ طورپر گئے۔ وہاں خدا نے گرج چمک اور زلزلہ کے ذریعے ایسے حالات پیدا كيے جس سے بنی اسرائیل کے لوگوں کے اندر انابت وخشیت پیداہو۔ چنانچه اس کے بعد وہ خداکے سامنے روئے گڑگڑائے اور اجتماعی توبہ کی۔ انھوںنے عہد کیا کہ وہ تورات کے احکام پر سچائی کے ساتھ عمل کریں گے۔ اس موقع پر حضرت موسیٰ نے دعا کی ’’اے ہمارے رب، ہمارے ليے دنیا اور آخرت میں بھلائی لکھ دے‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا ’’میں جس پر چاہتاہوں اپنا عذاب ڈالتا ہوں، اور میری رحمت ہر چیز کو شامل ہے‘‘ حضرت موسی کی دعا بحیثیت مجموعی اپنی پوری امت کے ليے تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے جواب میں واضح کردیا کہ نجات اور کامیابی کوئی گروہی چیز نہیں ہے۔ اس کا فیصلہ ہر ہر فرد کے ليے اس کے ذاتی عمل کی بنیاد پر ہوتاہے۔ اگر چہ میںتمام رحم کرنے والوں سے زیادہ رحیم ہوں۔ مگر جو شخص عمل صالح کا ثبوت نہ دے وہ میري پکڑ سے بچ نہیں سکتا، خواہ وہ کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتا ہو۔ خدا کی کتاب ہدایت ورحمت ہوتی ہے۔ وہ دنیا کی زندگی میں آدمی کے ليے بہترین رہنما ہے اور آخرت میں خدا کی رحمت کا یقینی ذریعہ۔ مگر خدا کی کتاب کا یہ فائدہ صرف اس کو ملتا ہے جو ’’ڈر‘‘ رکھتا ہو، جس کو اندیشہ لگا ہوا ہو کہ معلوم نہیں خدا میرے ساتھ کیا معاملہ کرے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سچے طالب حق ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے جب حق آتاہے تو وہ کسی قسم کی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوئے بغیر اس کو پالیتے ہیں۔ اس کے بعد خدا ان کے خوف اور امید کا مرکز بن جاتا ہے۔ ان کا سب کچھ خدا کے ليے وقف ہوجاتا ہے۔ ان کا ڈر ان کے شعور کو بیدار کردیتا ہے۔ ان کی نگاہ سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں۔ خدا کی طرف سے ظاہر ہونے والی نشانیوں کو پہچاننے میں وہ کبھی نہیں چوکتے۔ وہ اندیشہ کی نفسیات میں جیتے ہیں، نہ کہ قناعت کی نفسیات میں۔