Al-A'raaf • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّسُولَ ٱلنَّبِىَّ ٱلْأُمِّىَّ ٱلَّذِى يَجِدُونَهُۥ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَىٰهُمْ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ ٱلْخَبَٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَٱلْأَغْلَٰلَ ٱلَّتِى كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِهِۦ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَٱتَّبَعُوا۟ ٱلنُّورَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ ۙ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ﴾
“those who shall follow the [last] Apostle, the unlettered Prophet whom they shall find described in the Torah that is with them, and [later on] in the Gospel: [the Prophet] who will enjoin upon them the doing of what is right and forbid them the doing of what is wrong, and make lawful to them the good things of life and forbid them the bad things, and lift from them their burdens and the shackles that were upon them [aforetime]. Those, therefore, who shall believe in him, and honour him, and succour him, and follow the light that has been bestowed from on high through him-it is they that shall attain to a happy state."”
بنی اسرائیل دیکھتے چلے آرہے تھے کہ جتنے نبی آتے ہیں وہ سب ان کی اپنی قوم میں آتے ہیں۔ آخری رسول خدا کے منصوبہ کے مطابق بنی اسماعیل میں آنے والا تھا اس ليے خدا نے بنی اسرائیل کے انبیاء کے ذریعے انھیں پہلے سے اس کی خبر کردی۔ ان کی کتابوں میں کثرت سے اس کی پیشین گوئیاں ابھی تک موجود ہیں۔ ایسا اس ليے ہوا تاکہ جب آخری رسول آئے تو وہ کسی بڑے فتنہ میں نہ پڑیں اور بہ آسانی اس کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔ پیغمبر اسلام پڑھے لکھے نہ تھے۔ آپ امی رسول تھے۔ اُمّیت کے ساتھ پیغمبری، جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آخری اور انتہائی صورت میں جمع ہوئی یہی ہمیشہ کے ليے اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ معرفت خداوندی کا اظہار ہمیشہ ’’امیت‘‘ کی سطح پر ہوتا ہے۔ یعنی وہ کسی ایسے شخص کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے جو دنیوی معیار کے لحاظ سے اس قسم کے عظیم کام کا اہل نہ سمجھا جاتا ہو۔ تاریخ میں کبھی ایسا نہیںہوا کہ خدا نے بقراط اور افلاطون کو اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا ہو۔ دین کی اصل روح اللہ کا خوف اور آخرت کی فکر ہے۔ مگر بعد کے زمانہ میں جب اندرونی روح سرد پڑتی ہے تو ظواہر کا زور بہت بڑھ جاتا ہے۔ اب غیر ضروری موشگافیاں کرکے نئے نئے مسائل بنائے جاتے ہیں۔ روحانیت کے نام پر مشقوں اور ریاضتوںکا ایک پورا ڈھانچہ کھڑا کرلیا جاتا ہے۔ عوامی توہمات مقدس ہو کر نئی شریعت کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ یہود کا یہی حال ہوچکا تھا۔ انھوں نے خداکے دین کے نام پر توہمات اور جکڑ بندیوں کا ایک خود ساختہ ڈھانچہ بنالیا تھا اور اس کو خدا کا دین سمجھتے تھے۔ پیغمبر اسلام نے ان کے سامنے دین کو اس کی فطری صورت میں پیش کیا۔ غیر ضروری پابندیوں کو ختم کرکے سادہ اور سچے دین کی طرف ان کی رہنمائی فرمائی۔ پیغمبر جب آتا ہے تو سب سے بڑی نیکی یہ ہوتی ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے۔ مگر یہ ایمان عام معنوں میں محض ایک کلمہ پڑھنا نہیں ہے۔ یہ بے روح ڈھانچہ والے دین سے نکل کر زندہ شعور والے دین میں داخل ہونا ہے۔ سابقہ مذہبی ڈھانچہ سے آدمی کی وابستگی محض تاریخی روایات یا نسلی رواج کے زور پر ہوتی ہے۔ مگر نئے پیغمبر کے دین کو جب وہ قبول کرتاہے تو وہ اس کو شعوری فیصلہ کے تحت قبول کرتا ہے، وہ رسم سے نکل کر حقیقت کے دائرہ میں داخل ہوتا ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ سادہ بات ہر دور میں انسان کے ليے مشکل ترین بات ثابت ہوئی ہے۔