Al-A'raaf • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ فَبَدَّلَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ ٱلَّذِى قِيلَ لَهُمْ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُوا۟ يَظْلِمُونَ ﴾
“But those among them who were bent on wrongdoing substituted another saying for that which they had been given: and so We let loose against them a plague from heaven in requital of all their evil doings.”
مصر کی مشرکانہ فضا سے نکال کر خدا نے بنی اسرائیل کو صحرائے سینا میں پہنچایا۔ یہاں ان کی تنظیم قائم کی گئی۔ ان کو بارہ جماعتوں میں بانٹ دیا گیا۔ ہر جماعت کے اوپر ایک نگراں تھا اور حضرت موسیٰ سب کے اوپر نگراں تھے۔ پھر بنی اسرائیل کو خصوصی طورپر تمام ضروریات زندگی عطا کی گئیں۔ پہاڑی چشمے نکال کر ان کے ليے پانی فراہم کیا گیا۔ کھلے صحرا میں سایہ کے ليے ان پر مسلسل بدلیاں بھیجی گئیں۔ ان کی خوراک کے ليے من وسلویٰ اترا جو به آسانی انھیں اپنے خیموں کے سامنے مل جاتاتھا۔ ان کی باقاعدہ سکونت کے ليے ایک پورا شہر اریحا (وادیٔ یردن میں) ان کے حوالے کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا کہ تمھاری تمام ضرو ریات کا ہم نے انتظام کردیا ہے۔ اب حرص اور لذت پرستی میں مبتلا ہو کر ناپاک چیزوں کی طرف نہ دوڑو۔ اس کے بجائے قناعت اور اللہ کے آگے شکر گزاری کا طریقہ اختیار کرو۔ ’’باب (دروازہ) میں جھکے ہوئے داخل ہو‘‘ —یہاں باب سے مراد بستی کا دروازہ نہیں ہے بلکہ ہیکل سلیمانی کا دروازہ ہے۔ زمین میں اقتدار دینے کے بعد بنی اسرائیل سے کہاگیا کہ اپنی عبادت گاہ میں خاشع بن کر جاؤ اور گناہوں سے مغفرت مانگو۔ مسلمانوں کے یہاں جس طرح کعبہ کو بیت اللہ (خدا کاگھر) کہاجاتا ہے اسی طرح یہود کے یہاں ہیکل کو باب اللہ (خدا کا پھاٹک) کہاجاتاہے۔ یہود کو حکم دیاگیا تھا کہ اپنے عبادت خانہ میں عجزوتواضع کے ساتھ داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرو اور اللہ کی عظمت وجلال کو یاد کرکے اس کے آگے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے رہو۔ مگر یہود خدا کی نصیحتوں کو بھول گئے۔ وہ خدا کی بتائی ہوئی راہ پر چلنے کے بجائے خدا کے نام پر خود ساختہ راہوں کی طرف چلنے لگے۔ انھوں نے عجز کے بجائے سرکشی کا طریقہ اپنایا۔ شکر کا کلمہ بولنے کے بجائے وہ بے صبری کے کلمات بولنے لگے۔ یہود جب بگاڑ کی اس حد کو پہنچ گئے تو خدا نے اپنی عنایات ان سے واپس لے لیں۔ رحمت کے بجائے ان کو مختلف قسم کے عذابوں نے گھیر لیا۔