WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 164 من سورة سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Al-A'raaf • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌۭ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ۙ ٱللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًۭا شَدِيدًۭا ۖ قَالُوا۟ مَعْذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ﴾

“And whenever some people among them asked [those who tried to restrain the Sabbath-breakers], "Why do you preach to people whom God is about to destroy or [at least] to chastise with suffering severe?" -the pious ones would answer, "In order to be free from blame before your Sustainer, and that these [transgressors, too,] might become conscious of Him."”

📝 التفسير:

یہود کو یہ تلقین کی گئی تھی کہ وہ ہفتہ کا ایک دن (سنیچر) عبادت اور ذکرِ خداکے ليے خاص رکھیں۔ اس دن کوئی معاشی کام نہ کریں۔ بائبل کے مطابق حکم یہ تھا کہ جو شخص سبت کے قانون کی خلاف ورزی کرے وہ مار ڈالا جائے (خروج 31:14 )۔ مگر جب یہود میں بگاڑ آیا تو وہ اس کی خلاف ورزی کرنے لگے۔ ان کے مصلحین نے متوجہ کیا تو وہ نہ مانے۔ تاہم مصلحین نے اپنی کوشش مسلسل جاری رکھی۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کی اصلاح کا کام اگر چہ بظاہر دوسروں کے ليے ہوتاہے مگر وہ خود اپنے ليے کیا جاتاہے۔ اس کا اصل محرک اپنے آپ کو اللہ کے یہاں بری الذمہ ٹھہرانا ہے۔ اگر یہ محرک زندہ نہ ہو تو آدمی درمیان میں ٹھهر جائے گا، وہ اپني اصلاح اور تبلیغ کے عمل کو آخر وقت تک جاری نہیں رکھ سکتا۔ یہود کی سرکشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاملہ کو ان کے ليے اور سخت کردیاگیا۔ بحر قلزم کی مشرقي خلیج کے کنارے ایلہ شہر میں یہود کی آبادیاں تھیں۔ ان کی معیشت کا انحصار زیادہ تر مچھلیوں کے شکار پر تھا۔ خدا کے حکم سے یہ ہوا کہ سنیچر کے دن ان کے ساحل پر مچھلیوں کی آمد بہت بڑھ گئی۔ بقیہ چھ دنوں میں مچھلیاں بہت کم آتیں۔ مگر ممنوعہ دن (سنیچر) کو وہ کثرت سے پانی کی سطح کے اوپر تیرتی ہوئی دکھائی دیتیں۔ یہ یہود کے ليے بڑی سخت آزمائش تھی۔ گویا پہلے اگر یہ نوعیت تھی کہ سنیچر کے علاوہ چھ جائز دنوں میں شکار کرنے کا پورا موقع تھا تو اب صرف ایک حرام دن ہی شکار کرنے کا موقع ان کے ليے باقی رہ گیا۔ اب یہود نے یہ کیا کہ وہ حیلہ کے ذریعہ حرام کو حلال کرنے لگے۔ وہ سنیچر کے دن شکار نہ کرتے۔ البتہ وہ سمندر کا پانی کاٹ کر باہر بنے ہوئے حوضوں میں لاتے۔ سنیچر کے دن مچھلیاں چڑھتیں تو وہ نالی کے راستہ سے ان کے بنائے ہوئے حوض میں آجاتیں۔ اس کے بعد وہ حوض کا منھ بند کرکے مچھلیوں کے دریا میں لوٹنے کا راستہ روک دیتے۔ پھر اگلے دن اتوار کو جاکر ان کو پکڑ لیتے۔ اس طرح وہ ایک ناجائز فعل کو جواز کی صورت دینے کی کوشش کرتے تاکہ ان پر یہ حکم صادق نہ آئے کہ انھوں نے سنیچر کے دن شکار کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص جائز ذرائع سے اپنی ضروریات فراہم کرنے پر قناعت نہ کرے تو وہ اپنے آپ کو اس خطرہ میں ڈالتا ہے کہ اس کے ليے جائز ذرائع کا دروازہ سرے سے بند کردیا جائے اور نا جائز ذریعہ کے سوا اس کے ليے حصول معاش کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔