WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 166 من سورة سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Al-A'raaf • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ فَلَمَّا عَتَوْا۟ عَن مَّا نُهُوا۟ عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُونُوا۟ قِرَدَةً خَٰسِـِٔينَ ﴾

“and then, when they disdainfully persisted in doing what they had been forbidden to do, We said unto them: "Be as apes despicable!"”

📝 التفسير:

ایک کام جس سے خدا نے منع کیا ہو اس کو کرنا گناہ ہے اور حیلہ کے ذریعہ ناجائز کو جائز بنا کر کرنا گناہ پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ قانون سبت کی خلاف ورزی کرکے یہود اسی قسم کے مجرم بن گئے تھے۔ ایسے لوگ خدا کی لعنت کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ یعنی وہ خدا کی ان عنایتوں سے محروم ہوجاتے ہیں جو اس نے اس دنیا میں صرف انسان کے ليے مخصوص کی ہیں۔ ایسے لوگ انسانیت کی سطح سے گر کر حیوانیت کی سطح پر آجاتے ہیں۔ قانون سبت کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ یہی معاملہ کیاگیا۔ ’’اللہ نے ان کو بندر بنادیا‘‘ کا مطلب یہ نہیںہے کہ ان کی صورت بندروں کی صورت ہوگئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کااخلاق بندروں جیسا ہوگیا۔ ان کا دل اور ان کی سوچ انسانوں کے بجائے بندر جیسے ہوگئے۔ قيل بل جعل أخلاقهم كأخلاقها وإن لم تكن صورتهم كصورتها (المفردات للراغب الأصفہانى، صفحہ 666 )۔ وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ أَنَّهُ إِنَّمَا مُسِخَتْ قُلُوبُهُمْ فَقَطْ، وَرُدَّتْ أَفْهَامُهُمْ كَأَفْهَامِ الْقِرَدَةِ (تفسیر القرطبی، جلد1، صفحہ 443 ) انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کے اندر اس کے خالق نے عقل اور ضمیر رکھ دیا ہے۔ اس کے اندر جب کوئی خواہش اٹھتی ہے تو اس کی عقل وضمیر متحرک ہو کر فوراً اس کے سامنے یہ سوال کھڑا کردیتے ہیں کہ ایسا کرنا تمھارے ليے درست ہے یا نہیں۔ اس کے برعکس، بندر کا حال یہ ہے ا س کی خواہش اور اس کے عمل کے درمیان کوئی تیسری چیز حائل نہیں۔ جو بات بھی اس کے جی میں آجائے وہ فوراً اس کو كر ڈالتا ہے۔ اس کو نه اپنی خواہش کے بارے میں میں سوچنے کی ضرورت ہوتی اور نہ اس پر عمل کرنے کے بعد اس پر شرمندہ ہونے کی۔ اب انسان کا بندر ہوجانا یہ ہے کہ وہ اپنی عقل اور اپنے ضمیر کے خلاف عمل کرتے کرتے اتنا بے حس ہوجائے کہ اس قسم کے نازک احساسات اس کے اندر سے جاتے رہیں۔ اس کے دل میں جو بھی خواہش پیدا ہو اس کو وہ کرگزرے۔ جب بھی کوئی شخص اس کی زد میں آجائے تو وہ اس کی عزت اور اس کے مال پر حملہ کردے۔ کسی سے شکایت پیدا ہو تو فوراً اس کو ذلیل کرنے کے ليے کھڑا ہوجائے۔ کسی سے اختلاف ہوجائے تو اس پر غرانے لگے۔ کوئی اس کو اپنی راہ میں رکاوٹ نظر آئے تو فوراً اس سے لڑنا شروع کردے۔ سچا انسان وہ ہے جو اپنے آپ پر خدا کی لگام لگالے۔ اور بندر انسان وہ ہے جو بے قید ہو کر وہ سب کچھ کرنے لگے جو اس کا نفس اس سے کرنے کے ليے کہے۔ برائی سے روکنا ایک قسم کا اعلانِ برأت ہے۔ اس ليے کسی گروہ پر جب خدا کی یہ سزا آتی ہے تو اس کی زد میں آنے سے وہ لوگ بچا ليے جاتے ہیں جو برائی سے اس حد تک بے زار ہوں کہ وہ اس کے روکنے والے بن جائیں۔