WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 176 من سورة سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Al-A'raaf • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَٰهُ بِهَا وَلَٰكِنَّهُۥٓ أَخْلَدَ إِلَى ٱلْأَرْضِ وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ ۚ فَمَثَلُهُۥ كَمَثَلِ ٱلْكَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَث ۚ ذَّٰلِكَ مَثَلُ ٱلْقَوْمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا ۚ فَٱقْصُصِ ٱلْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ﴾

“Now had We so willed, We could indeed have exalted him by means of those [messages]: but he always clung to the earth and followed but his own desires. Thus, his parable is that of an [excited] dog: if thou approach him threateningly, he will pant with his tongue lolling; and. if thou leave him alone, he will pant with his tongue lolling. Such is the parable of those who are bent on giving the lie to Our messages. Tell [them], then, this story, so that they might take thought.”

📝 التفسير:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص امیہ بن ابی الصلت تھا۔ اعلیٰ انسانی اوصاف کے ساتھ وہ حکیمانہ کلام میں بھی ممتاز درجہ رکھتا تھا۔ اس کو جب معلوم ہوا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں میں ایک پیغمبر کے آنے کی پیشین گوئیاں موجود ہیں تو اس کو گمان ہوا کہ شاید وہ پیغمبر میں ہی ہوں۔ بعد کو جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوائے نبوت کی خبر ملی اور اس نے آپ کا اعلیٰ کلام سنا تو اس کو سخت مایوسی ہوئی۔ وہ پیغمبر اسلام کا سخت مخالف بن گیا۔ امیہ بن ابی الصلت کو خدا نے جو اعلیٰ خصوصیات دی تھیں ان کا صحیح استعمال یہ تھا کہ وہ خدا کے پیغمبر کو پہچانے اور ان کا ساتھی بن جائے۔ مگر خدا کی نوازشوں سے ا س نے اپنے اندر یہ ذہن بنایا کہ اب خدا کو میرے سوا کسی اور پر اپنا فضل نہ کرنا چاہيے۔ پیغمبر خدا کو نہ ماننے میں اسے دنیوی فائدہ نظر آتا تھا اس کے برعکس، آپ کو ماننے میں اخروی فائدہ تھا۔ اس نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دی۔ وہ اگر اعتراف کے رخ پر چلتا تو وہ فرشتوں کو اپنا ہم سفر بناتا۔ مگر جب وہ حسد اور گھمنڈ کے راستہ پر چل پڑا تو وہاں شیطان کے سوا کوئی اور نہ تھا جو اس کا ساتھ دے۔ یہ مثال ان تمام لوگوں پر صادق آتی ہے جو حسد اور کبر کی بنا پر سچائی کو نظر انداز کریں یا اس کو ماننے سے انکار کریں۔ کسی آدمی کا ایسا بننا اپنے آپ کو انسانیت کے مقام سے گرا کر کتے کے مقام پر پہنچا دینا ہے۔ کتا اچھے سلوک پر بھی ہانپتا ہے اور برے سلوک پر بھی۔ یہی حال ایسے آدمی کا ہے۔خدا نے جب اس کو دیا تب بھی اس نے اس سے سرکشی کی غذا لی اور نہ دیا تب بھی وہ سرکش ہی بنا رہا۔ حالاں کہ چاہیے یہ تھا کہ جب خدا نے اس کو دیا تھا تو وہ اس کا احسان مند ہوتا اور جب خدا نے نہیں دیا تو وہ خدا کی تقسیم پر راضی رہ کر اس کی طرف رجوع کرتا۔ کسی کو راستہ دکھانے کے ليے خدا خود سامنے نہیں آتا بلکہ وہ نشانیوں (دلائل) کی صورت میں اپنا راستہ لوگوں کے اوپر کھولتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ دلائل اور نشانیوں کے روپ میں ظاہر ہونے والے حق کو پہچان لیں اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنے پر راضی ہوجائیں وہی اس دنیا میں ہدایت یاب ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ دلائل اور نشانیوں کو اہمیت نہ دیں ان کے ليے ابدی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔