WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 18 من سورة سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Al-A'raaf • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ قَالَ ٱخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُومًۭا مَّدْحُورًۭا ۖ لَّمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكُمْ أَجْمَعِينَ ﴾

“[And God] said: "Go forth from here, disgraced and disowned! [And] as for such of them as follow thee - I will most certainly fill hell with you all!”

📝 التفسير:

خدا نے انسان کو اس دنیا میں جو کچھ دیا ہے اس ليے دیا ہے کہ اس کا نفسیاتی جواب وہ شکر کی صورت میں پیش کرے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جس کو آدمی اپنے رب کے سامنے پیش نہیں کرتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان اس کے اندر دوسرے دوسرے جذبات ابھار کر اس کو شکر کی نفسیات سے دور کردیتا ہے۔ آدم اور ابلیس کے قصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ہدایت اور گمراہی کا معرکہ کہاں برپا ہے۔ یہ معرکہ ان مواقع پر برپا ہے جہاں آدمی کے اندر حسد اور گھمنڈ کی نفسیات جاگتی ہیں۔ امتحان کی اس دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمي سے اوپر اٹھ جاتا هے، كبھي كوئي شخص دولت وعزت ميں دوسرے سے زياده حصه پاليتا هے۔ كبھي دو آدميوں کے درمیان ایسا معاملہ پڑتا ہے کہ ایک شخص کے ليے دوسرے کو اس کا جائز حق دینا اپنے کو نیچے گرانے کے ہم معنی نظر آتا ہے۔ کبھی کسی شخص کی زبان سے خدا ایک سچائی کا اعلان کراتاہے اور وہ ان لوگوں کو اپنے سے برتر دکھائی دینے لگتا ہے جو اس سچائی تک پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔ ایسے مواقع پر شیطان آدمی کے اندر حسد اور گھمنڈ کی نفسیات جگادیتا ہے۔ ’’میں بہتر ہوں‘‘کے جذبہ سے مغلوب ہو کروہ اپنے بھائی کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یہی خدا کی نظر میں شیطان کے راستہ پر چلنا ہے۔ جس شخص نے ایسے مواقع پر حسد اور گھمنڈ کا طریقہ اختیار کیا اس نے اپنے کو جہنمی انجام کا مستحق بنالیا جو شیطان کے لیے مقدر ہے اور جس نے ایسے مواقع پر شیطان کے پیدا كيے ہوئے جذبات کو اپنے اندر کچل ڈالا اس نے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ اس قابل ہے کہ اس کو جنت کے باغوں میں بسایا جائے۔ جو کچھ کسی کو ملتا ہے خدا کی طرف سے ملتا ہے۔ اس ليے کسی کي فضیلت کا اعتراف دراصل خدا کی تقسیم کے برحق ہونے کا اعتراف ہے اور اس کی فضیلت کو نہ ماننا خدا کی تقسیم کو نہ ماننا ہے۔ اسی طرح جب ایک شخص کسی حق کی بنا پر دوسرے کے آگے جھکتا ہے تو وہ کسی آدمی کے آگے نہیں جھکتا بلکہ خدا کے آگے جھکتا ہے۔ کیوں کہ ایسا وہ خداکے حکم کی بنا پر کر رہا ہے، نہ کہ اس آدمی کے ذاتی فضل کی بنا پر۔