Al-A'raaf • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ كِتَٰبٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ فَلَا يَكُن فِى صَدْرِكَ حَرَجٌۭ مِّنْهُ لِتُنذِرَ بِهِۦ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ ﴾
“A DIVINE WRIT has been bestowed from on high upon thee -and let there be no doubt about this in thy heart-in order that thou mayest warn [the erring] thereby, and [thus] admonish the believers:”
ہجرت کے بعد جو مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ پہنچے، ان کا مدینہ آنا مدینہ کے باشندوں (انصار) پر ایک بوجھ تھا۔ مگر انہوں نے نہایت خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اموال آئے تو آپ نے ان کا حصہ مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا۔ اس پر بھی انصارِ مدینہ کے اندر ان کے لیے کوئی رنجش پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ ان کے اتنے قدر داں رہے کہ ان کے حق میں ان کے دل سے بہترین دعائیں نکلتی رہیں۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ بناتی ہے۔