WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 20 من سورة سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Al-A'raaf • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ فَوَسْوَسَ لَهُمَا ٱلشَّيْطَٰنُ لِيُبْدِىَ لَهُمَا مَا وُۥرِىَ عَنْهُمَا مِن سَوْءَٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَىٰكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةِ إِلَّآ أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ ٱلْخَٰلِدِينَ ﴾

“Thereupon Satan whispered unto the two with a view to making them conscious of their nakedness, of which [hitherto] they had been unaware; and he said: "Your Sustainer has but forbidden you this tree lest you two become [as] angels, or lest you live forever."”

📝 التفسير:

حضرت نوح کی اس تقریر سے واضح ہوتا ہے کہ ان کا اندازِ دعوت بھی عین وہی تھا جو قرآن میں لوگوں کو دعوت دینے کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔ حضرت نوح نے کائناتی واقعات سے استدلال کرتے ہوئے اپنی دعوت پیش کی۔ انہوں نے اجتماعی خطاب بھی کیا اور انفرادی گفتگوئیں بھی کیں۔ لوگوں کا اصلاح پر لانے کے لیے انہوں نے اپنی ساری کوشش صرف کر ڈالی۔ مگر قوم آپ کی بات ماننے پر راضی نہ ہوئی۔ مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلهِ وَقَارًا کی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس نے ان الفاظ میں کی ہے  لَا تُعَظِّمُونَ اللهَ حَقَّ عَظَمَتِهِ (تفسیر الطبری، جلد 23 ، صفحہ 296 )۔ یعنی اللہ کی عظمت اس طرح نہیں مانتے جس طرح اس کی عظمت ماننا چاہیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت نوح کی قوم اللہ کا اقرار کرتی تھی، مگر اس پر اللہ کی عظمت کا احساس اس طرح چھایا ہوا نہ تھا جس طرح کسی انسان پر چھایا ہوا ہونا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی خدا پرستی کا اصل معیار ہے۔ جو شخص خدا کی عظمت میں جی رہا ہو وہ خدا پرست ہے۔ اور جس کا دل خدا کی عظمت کے احساس میں ڈوبا ہوا نہ ہو، وہ خدا پرست نہیں۔